ان قدیم دروازوں کو کھولنے کی جستجو کون کرے

ان قدیم دروازوں کو کھولنے کی جستجو کون کرے

ان قدیم دروازوں کو کھولنے کی جستجو کون کرے

جن لفظوں کے ہم امین ہیں انہیں بولنے کی جستجو کون کرے

ہم کلیم نہیں ہیں جو ندائے رب سن لیتے

چاروں طرف پھیلی ہے جو پکار اسے ٹٹولنے کی جستجو کون کرے

چراغ دل ہواؤں کے رحم و کرم پر، چھلکا پڑتا ہے، بجھا جاتا ہے

آؤ نور چرا لائیں آسماں سے ،کتنی حسین آیات دامن میں لیئے ٹمٹماتا ہے

اگر یہ ہو نہیں سکتا تو آؤ سینے سے لگا لیں قرآن کے صفحوں کو

ان میں بھی انہیں آیات کا عکس مسکاتا ہے

یا آؤ اس کو کھوجیں جسکا دل جاہِ نزول وحی ہے

جسکے ہم نو آؤں نے اسکے آنے سے پہلے اسی کی بات کہی ہے

جس کے ساتھی وہ تھے جنکے دلوں کے نور سے شرق و غرب جگمگایا

اس کی کہی بات کو من وعن پہنچایا ،ایسی دوستی یاری کس کے پاس ہوئی ہے

تو آؤ  دلوں کو پھر سے اک بار لؤ  دیں

زمین و آسمان میں پھیلے عیاں و نہاں نور کو دل میں سمو دیں

آؤ نور مانگ لائیں سیرت محبوب ربیّ  ﷺسے ہم

انبیاۖ٫ و صحابہ کے قصص انوار سے دل کو نمو دیں

کہ برق خرمن سے چراغ نہیں جلتے

صدیوں پڑے رہیں پہلو میں آگ کے چراغ نہیں جلتے

دل وہ چراغ ہیں تا حیات نہیں جلتے

بنا  لؤ کے اور بغیر نگہداشت نہیں جلتے

_ام قاسم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں