غیرملکی تیار ہو جائیں – رقوم کی منتقلی پر 5% فیصدٹیکس کی تجویز زیرغور

غیرملکی تیار ہو جائیں - رقوم کی منتقلی پر 5% فیصدٹیکس کی تجویز زیرغور 1

کویت؛ 15جون 2015: حکومت نواز رکن اسمبلی كامل العوضي‬ نے کل اسمبلی میں ایک تجویز پیش کی ہے کہ کویت میں کام کرنے والے تارکین وطن کی طرف سے اپنے ممالک کو بھیجی جانے والی تمام رقوم پر 5% فیصد ٹیکس نافذ کیا جائے تاکہ ان محصولات سے غیرملکیوں کو دی جانے والی سبسڈی اور سہولیات کے لئے ادائیگی ہوسکے۔ رکن اسمبلی جو سیاست میں آنے سے پہلے کئی سالوں تک امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں نے یہ تجویز سنٹرل بنک کے قانون میں ترمیم کے لئے ایک بل کی صورت میں پیش کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیرملکیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اوردوسری بہت سی سہولیات مثلاً پٹرول، گیس، پانی وغیرہ پہ سبسڈی کے بدلے میں حکومت کا حق بنتا ہے کہ وہ بیرون ملک ترسیلات زر پر ٹیکس وصول کرے۔

یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ زیادہ تر غیرملکی افراد کےبچے پرائیویٹ سکولوں میں اپنے خرچے پر پڑھتے ہیں کیونکہ قانون کے مطابق انہیں سرکاری سکولوں میں داخلہ کی اجازت نہیں۔ جبکہ وہ پہلے ہی ہیلتھ انشورنس کی مد میں 50دینار سالانہ ادا کرتے ہیں ورنہ ان کے اقامے کی تجدید نہیں کی جاتی۔

جناب العوضي‬ نے اپنے مجوزہ بل میں کہا ہے کہ تمام بنک اور منی ایکسچینج کمپنیاںغیرملکی افراد کی طرف سے بیرون ملک بھیجی جانے والی رقوم سے5% کٹوتی کرکےحکومت کے کھاتے میں جمع کروائیں اور ٹیکس ادا نہ کرنے والوں پر دوگنا جرمانہ کیا جائے۔ ان کے مطابق حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر ملکی افراد نے پچھلے ۵ سالوں میں۲۱ بلین دینار اپنے ملکوں میں بجھوائے، البتہ انہوں نے ان اعداد و شمار کا ذریعہ نہیں بتایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگراس بل کو منظور کر کے اس پر عمل درآمد کیا جائے توریاست کو یقینی طور پر سالانہ ۲۰۰ ملین دینار اضافی آمدن ہوسکتی ہے۔

Exit mobile version