دل اداس رہتا ہے — (فرحت عباس شاہ)

دل اداس رہتا ہے
بارشوں کے موسم میں
زندگی پگھلتی ہے
خواہشوں کے موسم میں
وقت ٹھہر جاتا ہے
منتظر نگاہوں میں
جنگلوں کے خطرے ہیں
بستیوں کی راہوں میں
ہو سکے تو لوٹ آنا
پیار کی پناہوں میں
عشق کا اجارہ ہے
دل کی شاہراہوں پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں